فرمودات قائد

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Tahir-ul-qadri-pics.jpg

اقوال و فرموادت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری

  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وصال خدا سے ملاقات کے لئے تھا اور میلاد امت کے لئے تھا۔
  • باطن کی علامات روحانی تربیت سے سامنے آتی ہیں۔
  • ایمان اس وقت تک کامل نہیں ہوتا جب تک اس کا یقین نہ ہوجائے اور یقین اس وقت تک نہیں بنتا جب تک اس کی علامات ظاہر نہ ہوں۔
  • جب ایمان یقین کامل بن جائے اور یقینی کیفیت حاصل ہوجائے تو پھر اعمال صالحہ کریں۔
  • حسد بھی ایک بلا ہے جو سارے اعمال کو آگ کی طرح جلا کر راکھ کر دیتی ہے یہ باطنی گناہ ہے۔ اس سے بچا جائے۔
  • جو عمل، محبت کی نیت سے کیا جائے اس میں کبھی غفلت نہیں آتی۔
  • جو انسان غیر کا خیال اور لالچ دل سے نکال دے تو اللہ کی محبت اس کا باطن بن جاتی ہے۔ وہ ہمیشہ خسارے سے بچ جاتا ہے اور آئندہ بھی خسارے سے بچا رہتا ہے۔
  • جو لوگ اعمال کو حسن و خوبی کے ساتھ اپنالیں وہ ہمیشہ حق کی وصیت کرتے رہیں گے۔
  • اگر آپ اپنی زندگی کو اعمال صالحہ کی ظاہری اور باطنی خوبیوں سے پختہ کر لیں تو آپ کی ذاتی زندگیاں سنور جائیں گی۔
  • جب کسی ملک یا دنیا کے حکام، سلاطین، ریاستوں اور مملکتوں کے وجود میں آنے کی خوشیاں دھوم دھام سے منائی جا سکتی ہیں تو محبوب خدا مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت کو سب جشنوں سے بڑھ کر کیوں نہیں منایا جا سکتا؟
  • ساری مخلوق کا خلاصہ انسان ہے۔ انسان کا خلاصہ نبوت اور نبوت کا خلاصہ رسالت ہے۔
  • تین سو چودہ رسول ایک ذات محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گُم ہیں۔ لہذا جس نے ذکرِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کرلیا اس نے ذکر رسل، ذکر انبیاء، ذکر خلائق، ذکر ملائک اور ذکر کُل کر لیا۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر کی دو جہتیں ہیں ایک یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر خود اللہ کا ذکر ہے اور دوسری یہ کہ حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ذکر اللہ کے ذکر کا ذکر ہے۔
  • اللہ کا ذکر ایک ہی ہے اور وہ ذکرمصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
  • میلاد کو خود خدا تعالیٰ نے منایا اسی لئے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کا ذاکر خود خدا ہے۔
  • انسان کے ایمان کی ابتداء ہی ان دیکھی حقیقتوں کو ماننا ہے
  • جب کوئی کسی شی کے اوپر متمکن ہوتا ہے تو شے اس کے تصرف میں دی جاتی ہے۔ پہلے وہ ہدایت لیتا تھا اب جس کو چاہتا ہے دیتا ہے اور بانٹتا ہے۔
  • جو لوگ صوفیاء کرام کا انکار کرتے ہیں وہ اپنی کم علمی کی بناء پر ایسا کرنے پر مجبور ہوتے ہیں جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
  • تصوف میں غوث سب سے اونچا درجہ ہے اسی طرح علم الحدیث میں امیرالمومنین سب سے اونچا درجہ ہے۔
  • احکام شریعت کی پابندی عین تصوف ہے۔
  • شریعت پر عمل کے بغیر کوئی صوفی اور ولی نہیں بن سکتا۔
  • بخیل شخص کبھی بھی خدا کا ولی نہیں ہو سکتا۔
  • جہاں درود پڑھا جائے وہاں نور پیدا ہوتا ہے، پس جہاں نور پیدا ہوتا ہے‘ وہاں اندھیرا ختم ہو جاتا ہے۔
  • درود وسلام پڑھنے والے اہلِ نور ہوتے ہیں اور درود نہ پڑھنے والے اہل ظلمت ہوتے ہیں۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر انفرادی اور اجتماعی طور پر درود و سلام پڑھنا اﷲ تعالیٰ اور فرشتوں کی سنت ہے۔
  • زمانے کے بدلنے کے ساتھ ساتھ نشیب و فراز آتے رہتے ہیں۔ سورج کبھی مشرق کی طرف جاتا نظر آتا ہے کبھی مغرب کی طرف‘ یہ انسانی زندگی کے بالکل مطابق ہے۔
  • ہمارا اسلوب وہ ہے جو آقاعلیہ الصلوۃ والسلام اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عطا فرمایا ہے۔
  • وہ نہیں ہے جس سے پوری امت مشکل میں گرفتار ہو جائے۔
  • آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام، آخر الانبیاء ہونے کے باوجود ذکر میں اول ہیں۔
  • بدقسمت ہیں وہ لوگ جو امت میں ہو کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عظمت و معرفت سے محروم ہیں۔
  • حسد سے محسود کا کچھ نہیں بگڑتا بلکہ حاسد کا ہی بگڑتا ہے۔
  • آپ کو جو گوشہ درود، حلقات ذکر اور تربیت کی ان مجالس، شب بیداری اور روحانی اجتماع میں بلایا جاتا ہے اس کا مقصد آپ کو ربانی بنانا ہے تاکہ حسن طریق اور نسبت محمدی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نصیب ہو۔
  • یاد رکھیں اگر میاں بیوی کو ایک دوسرے پر اعتماد نہیں تو محبت کا رشتہ استوار نہیں ہوگا۔
  • خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کو اللہ نے نیک بیوی دی۔
  • ایک دوسرے کی نیکی کا اعتراف کرنا بھی نیکی ہے۔
  • باطن کی علامات روحانی تربیت سے سامنے آتی ہیں،
  • اللہ کی محبت اور خوف و خشیت میں دیوانگی کی حد تک رونا سارے نامہ اعمال کو پاک و صاف کردیتا ہے۔
  • غفلت کے پردے کو چاک کرنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ عشق و محبت الہٰی اور خوف و خشیت الہٰی ہے۔
  • ادنیٰ سے اعلیٰ ہونے کا سفر مجاہدہ ہے۔
  • تقویٰ کا ظاہر عبادت اور باطن ادب ہے۔
  • جو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ادب نہیں کرتا وہ خدا کا بھی ادب نہیں کرتا۔
  • حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت و عشق ہی حاصل ایمان ہے۔
  • ہماری کامیابی، فتح و نصرت اللہ ہی سے وابستہ ہے کیوں دنیا کی ہر شے میں اللہ ہی کے جلوے پوشیدہ ہیں۔
  • جب کبھی قبولیت مل جائے گی تو لٹکا ہوا عمل اوپر اٹھالیا جائے گا لہذا اس خیال سے عمل کبھی نہیں چھوڑ دینا چاہئے کہ قبولیت نہیں ہوتی۔
  • بات خالی نسب سے نہیں بنتی بلکہ نسب کے ساتھ حسب ہونا بھی ضروری ہوتا ہے۔
  • دنیا کا ہر شخص اولاد کو جو سکھانا چاہے سکھا سکتا ہے۔
  • دین، دین والوں سے ادب، ادب والوں سے اور بندگی بندگی والوں سے سیکھی جاتی ہے۔
  • اللہ تعالیٰ جس بندے کے لئے خیر، لطف و کرم، عنایت و بخشش اور مغفرت کا ارادہ فرما دے تو پھر اس بندے کا بیڑا پار ہو جاتا ہے۔
  • کُن سے پہلے صرف اللہ تھا اور جب کُن ہوگیا تو کُن کے بعد جو بھی کچھ ہے وہ مخلوق ہے۔
  • اللہ کا ذکر ایک ہی ہے اور وہ ذکر مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔
  • حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انسان ہیں مگر سب انسانوں جیسے نہیں۔
  • جب عقیدہ علماء کے ہاتھ سے نکل کر واعظین کے ہاتھ میں آجائے تو پھر اس میں ڈھکوسلے اور مبالغے شامل ہوجاتے ہیں۔
  • اصل عقیدہ متقدمین، متاخرین، اکابر اور ائمہ کا ہے اور قرآن و حدیث پر مبنی ہے۔
  • انبیاء کرام، صالحین کے مبارک اماکن کو جائے نماز بنانا سنت ہے۔
  • اولیاء اللہ خالی اللہ کے محب نہیں بلکہ محبوب بھی ہوتے ہیں۔ بندہ اللہ کا محبوب پہلے اور محب بعد میں بنتا ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ اپنی محبت کے لئے چن لیتا ہے وہ محبوب ہوجاتا ہے۔
  • آج پھر دین پر عمل، اخلاق، محبت و اتباع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں زندہ کرنے۔ علم کو سب سے اولین
  • ترجیح دینے، اس کے حصول اور فروغ کے لئے تمام وسائل خرچ کرنے کی ضرورت ہے۔
  • ایک قاعدہ اور کلیہ ہے کہ جس جگہ اور مٹی سے ولادت ہوتی ہے وہیں مدفن بنتا ہے۔ اور اگر کسی جگہ کسی کی قبر بنے تو سمجھا جاتا ہے کہ اس کا بشری خمیر بھی اسی مٹی سی بنایا۔
  • اسلام محض فکر کا نہیں عزم و ارادے کا نام ہے ۔
  • ہر گناہ جرم نہیں، مگر ہر جرم گناہ ہے ۔
  • واسطہ رسالت کے بغیر ایمان باللہ مردود ہے ۔
  • عمل انفاق نہ صرف تزکیہ مال بلکہ تزکیہ نفس کا بھی باعث ہے ۔
  • اسلام محض علم کا نہیں عمل کا نام ہے ۔
  • نعت پڑھنا اور سننا حسن ایمان ہے ۔
  • وہ تلوار جو حق کے کردار سے عاری ہو ظلم ہے۔
  • مخفی عمل سب اعمال سے افضل ہے ۔
  • مقصد من میں اتر جائے تو بندہ مقصود خلائق بن جاتا ہے ۔
  • جمال خداوندی اور جمال مصطفوی ایک ہی حقیقت کے دو رخ ہیں۔
  • اسلام کی روح میں مشاورت اور جمہوریت کار فرما ہے۔
  • اجتماعی بود و باش کے تمام مظاہر میں فضول خرچی قومی زوال کا باعث ہے۔
  • گناہ سے نفرت کرو گنہگار سے نہیں۔
  • امت مسلمہ کی اکثریت کو گمراہ اور مشرک خیال کرنا خود منافقانہ سوچ ہے۔