کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز

منہاج انسائیکلوپیڈیا سے
(شریعہ کالج سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

منہاج یونیورسٹی لاہور کا سب سے قدیم کالج، جہاں میٹرک کے بعد داخلہ لینے والے طلبہ کو سات سالہ دور تعلیم میں پاکستان میں متداول ایف اے، بی اے اور ایم اے کی تعلیم کے ساتھ ساتھ علوم شرعیہ پر مبنی ایک جامع نصاب بھی پڑھایا جاتا ہے۔

پس منظر

تحریک منہاج القرآن کے عظیم تعلیمی منصوبے کی بنیاد 18 ستمبر 1986ء کو علوم وفنون اور تہذیب و ثقافت کے مرکز لاہور میں جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کی صورت میں رکھی گئی۔ لاہور بورڈ سے الحاق شدہ یہ ادارہ بعد ازاں کالج آف شریعہ کے نام سے موسوم ہوا اور اب منہاج یونیورسٹی لاہور (Chartered by Govt of Punjab, Act XII of 2005) کا اولین کالج ہے۔

مقصد قیام

اس کالج میں علوم شریعہ اور عصریہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ امتیازی نظم ونسق اور اخلاقی اور روحانی تربیت کا منفرد اہتمام کیاجاتا ہے۔ کالج ہذا کا قیام درج ذیل مقاصد کے پیش نظر عمل میں لایا گیا۔

  • کتاب وسنت کی روشنی میں اسلام کی ایسی تعبیر جس سے دور حاضر کے مسائل اورانسانیت کو درپیش مشکلات کا یقینی اور قابل عمل حل میسر آئے۔
  • نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و اطاعت کی ایسی تعلیم جو امت مسلمہ میں حقیقی وحدت کی بنیاد فراہم کر دے۔
  • نسل نو کی علمی و عملی، فکری و نظریاتی اور اخلاقی و روحانی تربیت کا ایسا موثر اہتمام جس سے وہ ملک و ملت کی مخلصانہ خدمت کے اہل ہو سکے۔
  • نوجوان نسل کی ایسی تعلیم جس کی بدولت وہ قرآن وحدیث، فقہ اور دیگر علوم شریعہ کے تحقیقی مطالعہ اور تقابل ادیان کی بنیاد پر دور حاضر کے مسائل اور تقاضوں کا حل پیش کرسکے۔
  • طلبہ کو تنگ نظری، تعصب، فرقہ پرستی اورانتہا پسندی کی محدود سوچ سے بالاتر کر کے انہیں اس قابل بنانا کہ وہ امت مسلمہ کے عالم گیر اتحاد کے لئے اہم کردار ادا کر سکیں۔
  • طلبہ کی ایسی اخلاقی و روحانی تربیت کر نا جس کے ذریعے وہ تعمیر شخصیت، تقوی، برداشت اور وسعت نظری کے حامل ہو سکیں۔
  • طلبہ کو جدید علوم سے بہرہ ور کرنا تاکہ وہ جدید پڑھے لکھے نوجوان ذہن کو اسلام کی حقانیت سے روشناس کر سکیں اور کسی بھی شعبہ زندگی میں اہم کردار ادا کر سکیں۔

ارتقائی سفر

110 کنال کے وسیع رقبے پر منہاج یونیورسٹی کے پھیلے ہوئے اولڈ اور نیو کیمپس کا سنگ بنیاد جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن لاہور کے نام سے 1986ء میں رکھا گیا، جب ادارہ منہاج القرآن کی مرکزی باڈی نے اس عظیم تعلیمی منصوبے کو حتمی شکل دی اور فروغ علم کے عظیم مشن کے حصول کی خاطر وسیع رقبہ اراضی حاصل کیا گیا۔

الحمد للہ تعالی یہ دانش گاہ اپنے قیام کے چند سال بعد ہی اپنے منفرد و مؤثر نظام تعلیم و تربیت، اعلیٰ کارکردگی اور امتیازی نظم و نسق کی بدولت یونیورسٹی کی حیثیت اختیار کرچکی ہے۔ اس یونیورسٹی کے مختلف ڈیپارٹمنٹس علوم اسلامیہ عصریہ، علوم شریعہ اور جدید فنی وسائنسی علوم کی تعلیم و ترویج کا اہم فریضہ انجام دے رہے ہیں۔ کامرس، کمپیوٹر سائنسز، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مینجمنٹ سائنسز، بیسک سائنسز اور سوشل سائنسز میں فروغ تعلیم کا سلسلہ 1995ء میں شروع ہوا اور چند سال کے مختصر عرصہ میں منہاج یونیورسٹی اس میدان میں ایک بڑا نام بن چکا ہے۔

عالمی اداروں سے الحاق

کامرس، کمپیوٹر سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے کورسز کا الحاق پنجاب یونیورسٹی سے ہے جبکہ علوم اسلامی اور علوم شریعہ میں کالج آف شریعہ کی ڈگری (شہادۃ العالمیۃ) کو 1992ء سے نہ صرف ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) سے بطور ایم اے اسلامیات وعربی کی ڈگری کی حیثیت سے منظوری حاصل ہے بلکہ مصر کی بین الاقوامی الازہر یونیورسٹی سے Equivalence حاصل ہے۔ مزید یہ کہ بغداد کی مستنصریہ یونیورسٹی نے منہاج یونیورسٹی کی شہادت العالمیہ کو مساوی درجہ دیتے ہوئے مستنصریہ میں اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے تسلیم کیا ہے۔ ملکی اور بین الاقوامی یونیورسٹیز کے ساتھ منہاج یونیورسٹی کی Affiliations/ Collaboration اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اس کا نظام تعلیم اعلیٰ اور معیاری ہے۔

خصوصیات

  • دینی و دنیوی تعلیم کا حسین امتراج
  • تعلیم کے ساتھ روحانی تربیت

امتیازات

  • طلبہ کی اہم پوزیشنیں
یہ ابھی نامکمل مضمون ہے۔
آپ اس میں ترمیم کر کے اسے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔